Akhbar-e-Mashriq

Akhbar-e-Mashriq

Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
Kolkata

سنگور میں بھاری گاڑیاں بنانے کا کارخانہ لگانے کی بات کہی وزیرِ اعلیٰ شوبھیندو نے

Admin
By Admin
Nov 06, 2026
Listen to Article Audio Narration
Loading narration audio... Playing • Tap to pause Tap play to listen to this story

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

سنگور میں بھاری گاڑیاں بنانے کا کارخانہ لگانے کی بات کہی وزیرِ اعلیٰ شوبھیندو نے
سنگور میں بھاری گاڑیاں بنانے کا کارخانہ لگانے کی بات کہی وزیرِ اعلیٰ شوبھیندو نے — November 06, 2026
سنگور میں بھاری گاڑیاں بنانے کا کارخانہ لگانے کی بات کہی وزیرِ اعلیٰ شوبھیندو نے
ہگلی کے سنگور میں صنعتوں کی واپسی ہو رہی ہے۔ اس سلسلے میں بھاری تجارتی گاڑیاں بنانے والی کمپنی اشوک لیلینڈ کے ساتھ ابتدائی بات چیت بھی ہوئی ہے۔ جمعرات کو نیو ٹاو¿ن میں ریاست کی نئی صنعتی پالیسی کا اعلان کرنے کے بعد وزیرِ اعلیٰ شوبھیندو ادھیکاری نے یہ بات کہی۔
گزشتہ اسمبلی انتخابات سے پہلے سنگور میں وزیرِ اعظم نریندر مودی نے ایک جلسہ کیا تھا۔ مودی کے جلسے کے جواب میں سنگور کے قریب اس وقت کی وزیرِ اعلیٰ ممتا بنرجی نے بھی جلسہ کیا تھا۔ تاہم سنگور اسمبلی حلقے میں ممتا کی پارٹی کے امیدوار کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ریاست میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد صنعتی حلقوں کی نظریں اسی لیے سنگور پر مرکوز تھیں۔ ریاست کے صنعت کے وزیر تاپس رائے پہلے ہی بتا چکے تھے کہ سنگور کے لیے ان کے پاس خصوصی منصوبہ ہے۔ اب خود وزیرِ اعلیٰ کے بیان سے سنگور میں نئے سرے سے صنعت کاری کی بات سامنے آئی ہے۔
2006 کے اسمبلی انتخابات کے بعد سنگور میں صنعت قائم کرنے کے لیے اس وقت کی بائیں بازو کی حکومت کے وزیرِ اعلیٰ بدھ دیب بھٹاچاریہ نے پہل کی تھی۔ ٹاٹا گروپ کے ’نینو‘ منصوبے کے ذریعے وہاں صنعت کاری کا آغاز ہوا تھا۔ لیکن تین فصلیں دینے والی زرعی زمین کے حصول کے الزام میں اس وقت کی اپوزیشن لیڈر ممتا بنرجی نے تحریک شروع کر دی۔ طویل تحریک کے نتیجے میں آخرکار ٹاٹا گروپ نے سنگور سے اپنا بوریا بستر سمیٹ لیا۔ 2011 میں اقتدار میں آنے کے بعد ممتا نے زمین کے حصول پر رضامند نہ ہونے والے کسانوں کو ان کی زمین واپس کر دی۔ وہ خود سنگور کی زمین پر پہنچیں اور دھان کے بیج بکھیر کر کسانوں کو زمین واپس کرنے کا پیغام بھی دیا تھا۔
جمعرات کے پروگرام میں وزیرِ اعلیٰ نے یقین دہانی کرائی کہ بائیں بازو کے دورِ حکومت کی طرح زمین کے حصول کے لیے کسانوں کا خون نہیں بہے گا۔ انہوں نے کہا، ”صنعتوں کے لیے زمین حاصل کرنے کے معاملے میں کسانوں پر گولیاں نہیں چلائی جائیں گی۔ اس وقت ریاست میں تقریباً دو کروڑ تعلیم یافتہ بے روزگار ہیں۔ روزگار کی کمی کے باعث 70 لاکھ تارکینِ وطن مزدور دوسری ریاستوں کا رخ کر چکے ہیں۔ اڈانی گروپ نے مجھے بتایا تھا کہ تاج پور میں ریاستی حکومت کی اپنی ایک ایکڑ زمین بھی نہیں تھی۔ اس لیے وہاں بندرگاہ بنانا ممکن نہیں ہو سکا۔ لیکن سنگور میں ہم کچھ نہ کچھ ضرور کریں گے۔ معروف بھاری تجارتی گاڑیاں بنانے والی کمپنی اشوک لیلینڈ کے ساتھ ابتدائی بات چیت بھی ہوئی ہے۔ لیکن ہم صرف مفاہمت نامے پر دستخط کرکے دکھاوے کا اعلان نہیں کرنا چاہتے۔ سابقہ حکومت کروڑوں روپے خرچ کرکے وشو بنگہ بزنس سمٹ منعقد کرتی تھی۔ لیکن عملی طور پر کچھ نہیں ہوا۔ ہم اس راستے پر نہیں چلیں گے۔“
نئی صنعتی پالیسی کا خاکہ پیش کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ نے بتایا کہ ماحول دوست بجلی کے استعمال پر خصوصی مراعات دی جائیں گی۔ بڑی صنعتوں کے لیے الگ پیکیج کا اعلان کرتے ہوئے کمپنیوں کو 120 فیصد تک مالی مدد فراہم کی جائے گی۔ خواتین ملازمین کو روزگار دینے پر اضافی مراعات ملیں گی۔ ضرورت پڑنے پر ریاست کام کرنے والی خواتین کے لیے ہاسٹل بنانے میں بھی مالی امداد دے گی۔ انہوں نے پیداواری یونٹوں کو ایس جی ایس ٹی کے معاملے میں بھی مالی مدد دینے کی یقین دہانی کرائی۔ شوبھیندو نے کہا، ”سابقہ حکومت کے دور میں چترنجن اور ہلدیہ کے صنعتی علاقے پوری طرح تباہ ہو گئے تھے۔ بنگال میں اب کوئی سنڈیکیٹ یا جبری وصولی نہیں چلے گی۔ عہد نامے میں کیے گئے ہر وعدے کو پورا کیا جائے گا۔“
نئی پالیسی میں اسپتالوں، میڈیکل کالجوں اور یونیورسٹیوں جیسے غیر منافع بخش اداروں میں سرمایہ کاری کے لیے اضافی مراعات اور 100 فیصد تک اسٹامپ ڈیوٹی میں چھوٹ دینے کی بات کہی گئی ہے۔ چھوٹی، درمیانی، بڑی اور خدمات کے شعبے سمیت ہر طرح کی صنعت کو اس امداد کے دائرے میں لانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ پسماندہ علاقوں میں کارخانے قائم کرنے پر اضافی ترغیبی رقم ملے گی۔ بیمار اور بند صنعتوں کی بحالی، سبز توانائی اور تحقیق و ترقی کے کاموں کو بھی ترجیح دی جا رہی ہے۔ مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے 15 شعبوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اجلاس میں وزیرِ اعلیٰ نے صنعت کاروں سے مال بردار لاریوں میں اوورلوڈنگ بند کرنے کی اپیل بھی کی۔ ریاست پر زیرِ التوا ترغیبی رقوم کا بھاری بوجھ ہونے کی بات بتاتے ہوئے شوبھیندو نے کہا، ”ریاست کی مالی حالت بہتر ہوتے ہی زیرِ التوا مراعات ادا کر دی جائیں گی۔ ہم جو کہتے ہیں، وہی کرتے ہیں۔ تاہم ابھی کوئی مخصوص مدت مقرر کرنا حقیقت پسندانہ نہیں ہوگا۔“

سنگور میں بھاری گاڑیاں بنانے کا کارخانہ لگانے کی بات کہی وزیرِ اعلیٰ شوبھیندو نے...

Source: Admin
Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn