دو دن تک لاپتہ رہنے کے بعد کُلک کے جنگل میں نابالغ لڑکی کی برہنہ لاش برآمد! عصمت دری کے بعد قتل کا شبہ؟
منگل کے روز گھر سے نکلنے کے بعد نابالغ لڑکی واپس نہیں لوٹی۔ جمعرات کی شام رائے گنج کے کُلک جنگل سے اس کی برہنہ لاش برآمد ہوئی۔ اس واقعے سے رائے گنج میں سنسنی پھیل گئی ہے۔ جمعرات کی دیر رات پولیس نے لاش برآمد کرکے پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دی۔ ابتدائی طور پر شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ 13 سالہ لڑکی کی عصمت دری کے بعد شواہد مٹانے کے لیے اسے قتل کیا گیا ہے۔ پولیس سی سی ٹی وی فوٹیج کی بنیاد پر تفتیش کر رہی ہے۔
معلوم ہوا ہے کہ نابالغ لڑکی شمالی دیناج پور کے رائے گنج کی رہنے والی تھی۔ منگل کے روز وہ سائیکل لے کر گھر سے نکلی تھی۔ متوفیہ کے والد کا دعویٰ ہے کہ وہ ایک رضاکار تنظیم کے کارکن کے گھر سے کپڑے لینے گئی تھی۔ اس کے بعد وہ واپس نہیں لوٹی۔ رات ہونے پر اہل خانہ نے مختلف مقامات پر اس کی تلاش شروع کی، لیکن لڑکی کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ اس کے بعد انہوں نے تھانے میں بھی شکایت درج کرائی۔
جمعرات کی شام کُلک جنگل کے قریب سے گزرنے والے چند لوگوں کو بدبو محسوس ہوئی۔ جب وہ قریب پہنچے تو ایک خوفناک منظر دیکھا۔ وہاں لڑکی کی برہنہ لاش پڑی تھی۔ فوراً پولیس کو اطلاع دی گئی۔ رات ہی میں رائے گنج میڈیکل کالج میں نابالغ لڑکی کی لاش کا پوسٹ مارٹم کیا گیا۔
پولیس واقعے کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے۔ رات میں کئی مرحلوں میں میٹنگیں ہوئیں اور کُلک جنگل سمیت متعدد علاقوں میں تلاشی مہم چلائی گئی۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ کرکے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ نابالغ لڑکی کن کن مقامات پر گئی تھی۔
اگرچہ ابتدائی طور پر عصمت دری اور قتل کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے، لیکن تفتیشی افسران کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی موت کی اصل وجہ واضح ہو سکے گی۔
متوفیہ کے اہل خانہ اور رشتہ داروں نے ملزم کو سخت سے سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ پولیس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ جلد ہی حقیقت سامنے لائی جائے گی اور ملزمین کو سزا دلائی جائے گی۔
دو دن تک لاپتہ رہنے کے بعد کُلک کے جنگل میں نابالغ لڑکی کی برہنہ لاش برآمد! عصمت دری کے بعد قتل کا شبہ؟...
Source: Admin