مغربی بنگال کی سیاست میں دو علیحدہ سنسنی خیز واقعات نے شدید ہلچل مچا دی ہے۔ ایک طرف رامپورہاٹ کے سابق ٹی ایم سی ایم ایل اے کی مشکوک موت اور دوسری طرف کرشنا نگر کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا کی دیر رات ہراسانی کے دعوے نے سیاسی حلقوں میں نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔
رامپورہاٹ کے وارڈ نمبر 5 میں واقع اپنی رہائش گاہ سے ملحقہ پارٹی دفتر سے رامپورہاٹ کے پانچ بار رکن اسمبلی اور سابق ریاستی وزیر آشیش بنرجی کی پھندا لگی لاش برآمد کی گئی ہے۔ ممتاز رہنما جو ممتا بنرجی کی حکومت میں اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر بھی رہ چکے ہیں، ان کی اچانک موت سے علاقے میں سنسنی پھیل گئی ہے۔
پولیس نے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا ہے۔ لاش کے پاس سے ایک 'سائڈ نوٹ' (خودکشی نوٹ) بھی برآمد ہوا ہے جس میں لکھا ہے:
"میری موت کا ذمہ دار کوئی نہیں ہے۔"
انہوں نے سیاست میں آنے پر افسوس کا اظہار کیا اور اپنے خاندان کو مستقبل میں سیاست سے دور رہنے کا مشورہ دیا۔
نوٹ میں بار بار دعویٰ کیا گیا کہ وہ کسی قسم کی بدعنوانی میں ملوث نہیں تھے، تاہم وہ پارٹی کی غلط باتوں کو قبول نہ کرنے کے باوجود کھل کر احتجاج کرنے سے قاصر تھے۔
مغربی بنگال کے سینئر سیاست داں اور ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے سابق رکن اسمبلی آشیش بنرجی کی لاش اتوار کے روز بیر بھوم ضلع کے رام پورہاٹ میں واقع ان کی رہائش گاہ کے دفتر سے برآمد...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments